سائنسدانوں نے شمال مغربی مراکش میں 90 ہزار سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت کیے ہیں۔

یہ انسانوں کی موجودہ نسل Homo sapiens کے شمالی افریقا میں ملنے والے قدیم ترین نشانات ہیں۔

مراکش، جرمنی، اسپین اور فرانس کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے قدموں کے ان نشانات کو جولائی 2022 میں مراکش کے شہر العرائش کے قریب ایک ساحلی علاقے میں دریافت کیا تھا۔

اب اس دریافت کے حوالے سے تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ ہم نے برفانی عہد سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے قدموں کے 85 نشانات دریافت کیے ہیں۔

ان نشانات کے حجم سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بچوں، نوجوانوں اور بالغ افراد کے قدموں کے نشانات ہو سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق 85 میں سے 31 نشانات ممکنہ طور پر بچوں کے ہیں، 26 نوجوانوں جبکہ 24 بالغ افراد کے ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ باقی 4 کے بارے میں عمر کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال ہونے والے ماڈل کے نتائج مکمل طور پر ٹھوس نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پر کوئی اسٹرکچر دریافت نہیں ہوا تو ہوسکتا ہے کہ یہ جگہ گزرنے کا راستہ ہو یا غذائی گزرگاہ ہو۔

محققین نے بتایا کہ اس عہد کے افراد شکاری تھے مگر ہوسکتا ہے کہ جن افراد کے قدموں کے نشانات ہمیں ملے ہیں وہ مختلف وسائل کو تلاش کر رہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ متعدد تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ساحلی علاقے ہمیشہ سے مختلف وسائل جیسے خام مال،شکار یا پودوں کے لیے اہم رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے شمالی افریقا بالخصوص مراکش کی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور موجودہ عہد کے انسانوں کی وہاں موجودگی کے اولین آثار ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی افریقا میں کسی اور جگہ برفانی عہد کے قدموں کے نشانات نہیں ملے، تو یہ اس خطے کے قدیم ترین قدموں کے نشانات ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقا میں ڈیڑھ لاکھ سال پرانے جبکہ سعودی عرب میں ایک لاکھ 20 سال پرانے قدموں کے نشانات دریافت ہوچکے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے