دنیا بھر میں اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ نے اسرائیلی برآمد کنندگان کو پریشان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رمضان المبارک کے دوران کئی عرب اور اسلامی ممالک میں اسرائیلی کھجوریں برسوں سے دسترخوان کا حصہ بنتی رہی ہیں تاہم اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد شروع ہونے والی بائیکاٹ مہم نے اسرائیلی کھجوروں، خصوصاً المجدول کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر کھجوروں کی مارکیٹ تقریباً 80 لاکھ ٹن کی ہے جس میں اسرائیل کا حصہ تقریباً 40 ہزار ٹن ہے۔ اسرائیلی کھجوروں کا 80 فیصد حصہ المجدول کھجوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اسرائیل زیادہ تر کھجوریں مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی یہودی بستیوں میں اگاتا ہے، خاص طور پر الغورن بستی میں سالانہ 30 ہزار ٹن المجدول کھجور پیدا ہوتی ہے جو اسرائیل کی مجموعی کھجور پیداوار کا 75 فیصد ہے۔
اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہمات نے مسلسل دوسرے سال بھی اسرائیل میں کھجور کاشت کرنے والوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق رمضان کے دوران اسرائیلی کھجوروں کی فروخت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ غزہ پر جنگ اور فلسطین کے حامیوں کی جانب سے جاری بائیکاٹ مہمات ہیں۔
کئی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کمپنیاں اپنی کھجوروں پر ’فلسطین‘ کا لیبل لگا کر صارفین کو گمراہ کر رہی ہیں جو برطانوی قوانین کے خلاف ہے۔